دیوبند،یکم ستمبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آسام کے این آرسی کے آج آئے فائنل ڈرافٹ کے متعلق اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نے کہاکہ جن 19 لاکھ لوگوں کے فائنل ڈرافٹ میں نام نہیں آئے ہیں انہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں غیر ملکی قرار دیاگیا ہے، جمعیۃ علماء ہند ان تمام لوگوں کے ساتھ ہے اور آخری حد تک ان کی مدد کی جائے گی۔
اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت تک تین کروڑ گیارہ لاکھ ہندو اور مسلمانوں کے نام این آرسی میں آچکے ہیں لیکن 19 لاکھ چھ ہزار کچھ سو لوگ ابھی باقی رہ گئے ہیں جن کے نام نہیں آئے، لیکن اس سلسلہ میں وزیر داخلہ اور آسام کے وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں کہ جن کے نام نہیں آئے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ غیر ملکی قرار دے دیئے گئے ہیں، بلکہ ابھی ان کے لئے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے اپنے ثبوت پیش کرنے کا موقع ابھی کئی مہینے تک رہے گا۔
انہوں نے کہا، جمعیۃ علماء ہند نے جس طرح اب تک ایک ایک آدمی کی مدد کی ہے، ہمارے اندر آج بھی یہ حوصلہ ہے کہ جمعیۃ علماء ہند ہر ہندو اور ہر مسلمان کے لئے اس سلسلہ میں آخری حد تک مدد کریگی اور سب کو ان کاحق ضرور ملے گا۔
مولانا سید ارشد مدنی نے کشمیر سے دفعہ 370 اور 35 اے کے خاتمہ کے متعلق کہا کہ حکومت نے جو فیصلہ لیا ہے وہ غلط بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے قبل امریکہ کے افغانستان سے متعلق لئے گئے فیصلوں کے نتائج ہم دیکھ چکے ہیں اور امریکہ کو افغانستان سے ذلیل ہوکر نکلنا پڑا۔
مولانا ارشد مدنی نے کشمیر کی موجودہ صورتحال کے متعلق اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا پہلے سے یہ واضح موقف ہے کہ جذبات میں آ کر کوئی بھی حکومت عوامی تحریک کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کاحل گفت و شنید میں ہے اسلئے بات چیت ہونی چاہئے اور اس مسئلہ کو بھی گفت و شنید سے ہی حل کیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی تحریک حکومت سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا کہ امریکہ سپر پاور ہونے کے باوجود عوامی تحریکوں کامقابلہ نہیں کر سکا۔ افغانستان جیسے غریب ملک میں امریکہ اور روس کا کیا حال ہواو ہ سب کے سامنے ہے، روس ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، ہندوستان تو اتنی بڑی طاقت نہیں ہے اسلئے ہم کہتے ہیں اس کے باوجود موجودہ صورتحال کے مدنظر حکومت نے جو اقدام کیاہے ہو سکتا ہے وہ مفید نہ ہو، اسلئے ہم آج بھی اپنے موقف پر پوری طرح قائم ہیں اور کہتے ہیں اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے گفت وشنید کے علاوہ کچھ حل نہیں ہے، اگر گفت وشنید کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کیاجائیگا ہوسکتاہے وہ ملک مفاد میں بہتر نہ ہو۔
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت سے ملاقات کے متعلق اپنی رہائش گاہ پر مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سید ارشدمدنی نے بتایا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت کے خلاف محبت کے پیغام کو پھیلا رہے ہیں اور اسی کے تحت انہوں نے موہن بھاگوت سے ان کے دفتر پر ملاقات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں نفرت کا ماحول چاروں طرف گرم ہے، لہٰذا خود سے زیادہ ملک سے محبت کرنے کی ضرورت ہے، مولانا نے کہا کہ ہم نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے سامنے اپنا نظریہ پیش کیا کہ موجودہ حالات میں اگر ہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے مل کر کام نہیں کریں گے تو آنے والا وقت صرف اقلیتوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک میں بسنے والے ہر فرد کے نقصان کا سبب بنے گا۔
انہوں نے کہاکہ اگر ابھی حالات پر قابو نہ پایا گیا تو ہمارا پیارا ملک تباہ ہوجائے گا، لہٰذا ہمیں اور آپ کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ ہم نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے پہل کی ہے۔ مولانا نے کہا کہ آر ایس ایس کے سربراہ نے کھل کر ان کی تجاویز کی حمایت کی اور امید کی کہ ہم ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لئے مل کر کام کریں گے۔ موہن بھاگوت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک کو بچانے کے لئے آپ کا اقدام بالکل درست ہے ، ہم اس پر ضرور کام کریں گے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہم مزید قریب رہ کر اپنی قوم اور ملک کے مفاد میں کام کریں گے۔